مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يأخذ من مال ولده باب: کوئی شخص (والد) اپنے بچے کے مال میں سے کچھ لے لے
حدیث نمبر: 24186
٢٤١٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رجلًا أتى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه! (إن) (١) أبي (اجتاح) (٢) مالي، فقال: "أنت ومالك لأبيك" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے والد نے میرا مال لے لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے والد ہی کے ہیں۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ط]: (احتاج).
(٣) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٦٩٠٢)، وأبو داود (٣٥٣٠)، وابن ماجه (٢٢٩٢)، والطحاوي ٤/ ١٥٨، وابن الجارود (٩٩٥)، والبيهقي ٧/ ٤٨٠، وأبو نعيم في تاريخ أَصبهان ٢/ ٢٢، والخطيب في تاريخ بغداد ١٢/ ٤٩.