حدیث نمبر: 24100
٢٤١٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا جرير بن حازم عن ابن سيرين عن شريح قال: جاءه رجل أعمى يخاصم في أمة أعمرها، فقضى (بها) (١) شريح (للذي) (٢) أُعمرها، فقال الرجل: قضيت علي، فقال: ما أنا قضيت عليك، ولكن قضى رسول اللَّه ﷺ: "من ملك شيئا حياته [فهو له حياته] (٣) و (٤) موته" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شریح کے پاس ایک نابینا شخص باندی کے متعلق (اس کو عمری بنایا تھا) جھگڑا کرتے ہوئے آیا، حضرت شریح نے جس نے اس کو عمری بنایا تھا اس کے حق میں فیصلہ فرمایا ، اس شخص نے کہا آپ نے میرے خلاف فیصلہ کیا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے تیرے خلاف فیصلہ نہیں دیا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا تھا : جو زندگی بھر کے لئے کسی چیز کا مالک بنے وہ زندگی اور مرنے کے بعد اسی کی ہے۔

حواشی
(١) في [هـ، أ]: (لها).
(٢) في [ح]: (الذى).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [هـ، ط]: زيادة (بعد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24100
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ شريح تابعي، أخرجه النسائي في الكبرى (٦٥٨٧)، وعبد الرزاق (١٦٨٨٠)، والبيهقي (٦/ ١٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24100، ترقيم محمد عوامة 23074)