حدیث نمبر: 24098
٢٤٠٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة (١) قال: سألت إبراهيم عن السكنى، (قال) (٢): ترجع إلى ورثة المسكن، (فقلت) (٣): يا أبا (عمران) (٤)! أليس كان يقال: من ملك شيئا حياته (فهو) (٥) له حياته و (٦) موته، قال: (ذلك) (٧) في العمرى.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سکنی (رہائشی مکان) کے متعلق سوال کیا ؟ آپ نے جواب دیا ک ہ وہ گھر اس شخص کے ورثاء کو ملے گا جس نے رہنے کے لیے دیا تھا میں۔ میں نے عرض کیا : اے ابو عمران کیا مسئلہ یوں نہیں ہے ؟ کہ جو کسی چیز کا زندگی کے لئے مالک بنا وہ اس کی زندگی اور مرنے کے بعد بھی مالک رہے گا ؟ آپ نے فرمایا یہ عمری کے بارے میں ہے۔

حواشی
(١) في [ز]: زيادة (عن قال سالف).
(٢) في [جـ]: (فقال).
(٣) في [ز]: (فقال).
(٤) في [ط]: (عمر).
(٥) في [أ، ح، ط، ز]: (فهي).
(٦) في [هـ، أ، ح]: زيادة (بعد).
(٧) في [جـ]: (ذاك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24098
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24098، ترقيم محمد عوامة 23072)