حدیث نمبر: 23995
٢٣٩٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا بعض المشيخة عن قيس عن العلاء بن المسيب عن حماد عن إبراهيم قال: لا بأس أن يباع البعير بالبعير بينهما (العشرة) (١) (الدراهم) (٢) إذا كان الحيوان معجلا والدراهم (مؤخرة) (٣)، وكرهه إذا كانت الدراهم معجلة والحيوان (مؤخرًا) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرماتے ہیں کہ اونٹ کو اونٹ کے بدلے میں اس طرح فروخت کیا جائے کہ ان کے درمیان دس دراہم ہوں جبکہ حیوان نقد اور دراہم ادھار ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اگر دراہم نقد ہوں اور حیوان مؤخر ہوں تو اس کو ناپسند کرتے تھے۔

حواشی
(١) في [جـ، ز]: (عشره).
(٢) في [ز]: (دراهم).
(٣) في [هـ، أ]: (موجودة).
(٤) في [أ، هـ، ح، ط، جـ]: (مؤخرة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23995
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23995، ترقيم محمد عوامة 22978)