مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشتري العبد له المال أو النخل فيه التمر باب: کوئی شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال ہو یا پھر پھل دار درخت ہوں
حدیث نمبر: 23984
٢٣٩٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: قال علي: من باع عبدا وله مال فالمال للبائع (إلا أن يشترط المبتاع) (١)، ومن باع نخلا قد أبرت -يعني: لقحت- (فثمرته) (٢) للبائع إلا أن يشترط المبتاع، قضى به رسول اللَّه ﷺ (٣).مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال بھی ہو تو وہ مال بائع کا ہوگا، مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی بھی شرط لگا دے ان الفاظ کے ساتھ کہ میں اس کو اور اس کے مال کو آپ سے خریدتا ہوں، اور جو شخص ایسا درخت خریدے، جس کے پھل پک چکے ہوں تو اس کے پھل بائع کے ہوں گے، مگر یہ کہ خریدنے والا پھلوں کی بھی شرط لگا دے۔
حواشی
(١) سقط من [أ، ح، ط].
(٢) في [جـ]: (فثمرتها).
(٣) منقطع؛ أبو جعفر لم يدرك عليًا.