حدیث نمبر: 23950
٢٣٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن فضيل بن (غزوان) (١) قال: حدثني أبو دهقانة قال: كنت جالسا عند عبد اللَّه بن عمر فقال: أتى رسول اللَّه ﷺ ⦗٣٧٩⦘ ضيف فقال لبلال: "ائتنا بطعام"، فذهب بلال إلى صاعين من تمر (فاشترى) (٢) به صاعا من تمر جيد، وكان تمرهم (دونا) (٣)، فأعجب النبي ﷺ التمر فقال النبي ﷺ: "من أين هذا التمر"، فأخبره أنه بدل صاعين بصاع فقال رسول اللَّه ﷺ: "رد علينا تمرنا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو دھقانہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مہمان آیا، آپ علیہ السلام نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ہمارے لئے کھانا لاؤ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ دو صاع کھجور لے کر گئے اور ان کے بدلے ایک صاع اعلیٰ کھجور لے آئے، جبکہ ان کی کھجور اس سے ادنیٰ تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور پسند آئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : یہ کھجوریں کہاں سے آئیں ؟ انہوں نے بتایا کہ دو صاع دے کر ایک صاع لایا ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیں ہماری کھجوریں واپس لا کردو۔

حواشی
(١) في [ز]: (غرول).
(٢) في [أ، هـ]: (اشترى).
(٣) في [أ، ح، ط، ز]: (دون).
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي دهقانة، أخرجه أحمد (٤٧٢٨)، وعبد بن حميد (٨٢٥)، وأبو يعلى (٥٧١٠)، والطبراني (١٠٢٨).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23950
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23950، ترقيم محمد عوامة 22935)