مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من قال: الذهب بالذهب والفضة بالفضة باب: سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
٢٣٩٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي الأشعث قال: كنا في غزاة وعلينا معاوية، فأصبنا (فضة وذهبا) (١)، فأمر معاوية رجلا (٢) يبيعها الناس في (أعطياتهم) (٣)، (فسارع) (٤) الناس فيها، فقام عبادة فنهاهم، فردوها، فأتى الرجل معاوية فشكا إليه، فقام معاوية خطيبا فقال: ما بال رجال يحدثون عن رسول اللَّه ﷺ أحاديث يكذبون فيها (٥) لم ⦗٣٧٧⦘ نسمعها؟ فقام عبادة فقال: واللَّه لنحدثن عن رسول اللَّه ﷺ (٦) وإن كره معاوية، قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تبيعوا الذهب (بالذهب) (٧)، ولا الفضة بالفضة، (٨) ولا الشعير بالشعير، ولا التمر بالتمر، ولا الملح بالملح إلا مثلا بمثل سواء (بسواء) (٩) عينا بعين" (١٠).حضرت ابو الاشعث فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جہاد میں تھے جس میں حضرت معاویہ بھی ہمارے ساتھ تھے، ہمیں مال غنیمت میں سونا اور چاندی ملے، حضرت معاویہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے ساتھ بیع کرے اس سونا چاندی میں جو ان کو ملا ہے، لوگوں نے اس میں بہت جلدی کی، حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو اِ س سے منع فرما دیا، انہوں وہ واپس کردیا، وہ شخص حضرت معاویہ کے پاس شکایت لے کر آیا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جو کہ جھوٹی ہوتی ہیں جن کو ہم نے نہیں سنا ہوتا ؟ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا : خدا کی قسم ہم ضرور رسول اکرم ﷺ سے احادیث بیان کریں گے اگرچہ معاویہ کو وہ بُری لگیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے ، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، نمک کو نمک کے بدلے نہ فروخت کرو، مگر برابر سرابر، ہاتھ در ہاتھ اور نقد۔