حدیث نمبر: 23929
٢٣٩٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن (الحجاج) (١) عن عبد الرحمن بن عابس عن أبيه قال: اشترى حذيفة (من رجلين من النخع ناقة) (٢) [وشرط (لها) (٣) من النقد رضاهما] (٤) فجاء بهما (إلى) (٥) منزله فأخرج لهما (كيسًا) (٦) (فافسلا) (٧) عليه (ثم أخرج لهما كيسًا فافسلا عليه) (٨) فقال حذيفة: ⦗٣٧٣⦘ (إني باللَّه) (٩) منكما، إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من شرط على صاحبه شرطا لم يف له، به كان كالمدلي (بجاره) (١٠) إلى غير (منعة) (١١) " (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مقام نخع کے دو شخصوں سے اونٹنی خریدی، اور شرط لگا دی کہ جس پر وہ دونوں راضی ہوں گے وہ نقدی دی گے ، پھر وہ ان دونوں کو اپنے مکان پر لائے، اور ان کے لیے ایک تھیلی نکالی، انہوں نے کہا یہ کھوٹے ہیں، انہوں نے پھر ایک اور تھیلی نکالی، انہوں نے پھر کہا یہ کھوٹے ہیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم میں بھی تم میں سے ہوں، میں نے خود رسول اکرم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ، جو شخص اپنے ساتھی پر شرط لگائے وہ اس کو اس کے لئے پورا نہ کرے، تو وہ گویا کہ ایسے مقام پر ہے کہ اس کا پڑوسی تکلیف میں ہے وہ اس کو اس سے نہیں روکتا۔

حواشی
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (حجاج).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [أ، ز]: (لها).
(٤) زيادة في [أ، جـ، ز].
(٥) في [هـ]: (في).
(٦) في [هـ]: (كيسه).
(٧) في [هـ]: (فانكرا).
(٨) سقط من [أ، ح، ط، هـ].
(٩) في [هـ]: (إي واللَّه).
(١٠) في [أ، ب، هـ]: (تجارة)، وفي [ط]: (جاره).
(١١) في [أ، ب، هـ]: (متعة)، وفي [ز]: (منفعة).
(١٢) منقطع حكمًا؛ الحجاج مدلس، أخرجه أحمد (٢٣٤٣٨)، والحارث كما إتحاف الخيرة (٣٧٩٨)، وبغية الباحث (٤٥٠)، وانظر: المطالب العالية (١٣٩٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23929
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23929، ترقيم محمد عوامة 22914)