مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
ما تجوز فيه شهادة اليهودي والنصراني باب: یہودی اور نصرانی کی گواہی درست ہے
حدیث نمبر: 23903
٢٣٩٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن الشعبي أن رجلا من خثعم توفي (بدقوقاء) (١) فلم يُشهد على وصيته إلا نصرانيين، فأحلفهما أبو موسى بعد (العصر) (٢) باللَّه: ما خانا ولا كتما ولا بدلا، و (إنها) (٣) (لوصيته) (٤) فأجاز شهادتهما (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کا ایک شخص دقوقا مقام میں وفات پا گیا، اس نے اپنی وصیت پر صرف دو نصرانیوں کو گواہ بنایا۔ اُن دونوں کو ابو موسیٰ نے عصر کے بعد ان الفاظ کے ساتھ قسم دی کہ خدا کی قسم ! ہم نے خیانت نہیں کی، نہ ہی اس کو چھپایا ، اور نہ ہی اس کو تبدیل کیا ، بیشک یہی وصیت ہے، پھر انہوں نے ان نصرانیوں کی گواہی کو نافذ کردیا۔
حواشی
(١) مدينة في العراق، قرب بغداد.
(٢) في [ط]: (آليه).
(٣) في [هـ]: (أنهما).
(٤) في [ح]: (الوصية).