مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يزرع في الأرض بغير إذن (أهلها) باب: کوئی شخص دوسرے کی زمین پر بغیر اُس سے پوچھے کاشت کرے
٢٣٩٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن أبي جعفر الخطمي قال: بعثني (عمي) (١) (أنا) (٢) (وغلاما) (٣) له إلى سعيد بن المسيب فقال: ما تقول في المزارعة؟ قال: كان ابن عمر لا يرى بها بأسا، حتى حُدّث (عن) (٤) رافع بن خديج (فيها) (٥) حديثا أن رسول اللَّه ﷺ (أتى) (٦) بني حارثة فرأى زرعا في أرض ظهير، فقال: "ما أحسن زرع (ظهير) (٧)! "، (فقالوا) (٨): إنه ليس لظهير، قال: "أليست الأرض أرض ظهير؟ " قالوا: بلى، ولكنه زارع فلانا، قال: "فردوا عليه نفقته وخذوا (أرضكم) (٩) وزرعكم" (١٠)، قال رافع: فرددنا عليه نفقته وأخذنا زرعنا.حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اور ایک لڑکے کو میرے چچا نے حضرت سعید بن المسیب کے پاس بھیجا، ان سے دریافت کیا کہ آپ مزارعت کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ فرمایا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، یہاں تک کہ ان کو رافع بن خدیج سے یہ حدیث بیان کی گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارثہ کے پاس آئے اور آپ نے ظھیر کی زمین کو دیکھا، اور فرمایا : ظُھیرکی کھیتی کتنی عمدہ اور اچھی ہے ! ، لوگوں نے عرض کیا : یہ ظھیر کی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا یہ ظھیر کی زمین نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں، لیکن اس کو فلاں شخص نے (بغیر اجازت) کاشت کیا ہے۔ فرمایا : اس کو اس کا نفقہ (خرچہ) واپس کردو، اور تم اپنی کھیتی واپس لو، حضرت رافع فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کو نفقہ واپس کردیا اور کھیتی واپس لے لی، حضرت سعید فرماتے ہیں کہ اپنے بھائی کو عاریتاً زراعت کے لیے دے دو یا پھر چاندی کے بدلے کرایے پردے دو ۔