مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كره النهبة ونهى عنها باب: جو حضرات لوٹ مار کو ناپسند کرتے ہیں اور اُس کی ممانعت
حدیث نمبر: 23767
٢٣٧٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن عاصم بن كليب عن أبيه قال: أخبرني رجل من أصحاب النبي ﷺ قال: كنا مع النبي (في) (١) غزاة فأصابتنا مجاعة، فأصبنا غنما فانتهبناها قبل أن تقسم، فأتانا رسول اللَّه ﷺ يمشي متوكئا على قوسه حتى (أتانا) (٢) على قدرونا فكفأها بقوسه وقال: ⦗٣٣٢⦘ "ليست النهبة بأحل من الميتة" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلیب ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک غزوہ میں حضور ﷺ کے ساتھ تھے ہمیں سخت بھوک لگی ، ہم نے کچھ بکریاں پائیں تو ہم نے ان کو تقسیم سے پہلے لوٹ لیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمان پر سہارا لئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری ہانڈیوں کے پاس تشریف لائے اور ان کو کمان سے الٹ دیا اور فرمایا : لوٹی ہوئی چیز مردار سے زیادہ حلال نہیں ہے۔ (دونوں کا حکم برابر ہے) ۔
حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [هـ، س]: (أتى).