حدیث نمبر: 23702
٢٣٧٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (همام) (١) بن يحيى عن قتادة عن يزيد الرشك عن القاسم، قال: قلت لسعيد بن المسيب: ما ترى (في) (٢) كسب (القسام) (٣)؟ فكرهه، قلت: إني أعمل فيه حتى (يعرق) (٤) جبيني، فلم يرخص لي فيه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے کہا : تقسیم کرنے والے کی اجرت کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے اس کو ناپسند کیا، میں نے عرض کیا کہ میں تقسیم کرتا ہوں یہاں تک کہ میری پیشانی پر پسینے آجاتے ہیں، انہوں نے میرے لئے اس میں نرمی اور اجازت نہیں دی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حسن اس کی کمائی کو ناپسند کرتے تھے، حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر وہ خبیث نہیں ہے تو پھر میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے۔

حواشی
(١) في [ز]: (هشام).
(٢) في [ط]: (فما).
(٣) في [ط]: (قاسم).
(٤) في [ط]: (يعرف).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23702
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23702، ترقيم محمد عوامة 22704)