مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في رجل باع من رجل سلعة (إلى أجل) وشرط عليه: إن باعها قبل الأجل فهو أحق بها باب: کوئی شخص کسی کو سامان فروخت کرے ایک مقررہ وقت کے لئے اور شرط لگا دے کہ اگر اُس مدت سے قبل فروخت کیا تو وہ اُس کا زیادہ حق دار ہے
حدیث نمبر: 23651
٢٣٦٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبد العزيز ابن رفيع قال: بعت من رجل جارية وشرطت عليه إن تبعها نفسي، قال: ⦗٢٩٩⦘ (فتبعتها) (١) نفسي فخاصمته إلى شريح فقال: قد أقررت بالبيع فبينتك على الشرط.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن رفیع فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو باندی فروخت کی ، اور اس پر شرط لگا دی کہ اس کو مجھے فروخت کرے گا، پھر اس نے اس کو مجھے فروخت کردیا، میں اس جھگڑے کو حضرت شریح کے پاس لے گیا، آپ نے فرمایا : تو نے بیع کے ساتھ اقرار کیا ہے، پس تجھے شرط پر گواہ لانے پڑیں گے۔
حواشی
(١) في [هـ، ح]: (فتبعها).