حدیث نمبر: 23556
٢٣٥٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن سفيان بن دينار عن مصعب ابن سعد (١) أن صاحب (ضيعة سعد) (٢) أتاه فقال: إن الأعناب قد كثرت، فقال: ⦗٢٧٠⦘ (اتخذوه) (٣) زبيبًا، بعه عنبًا، (فقال) (٤): إنه أكثر من ذلك، قال: فخرج سعد إلى ضيعته فأمر بها فقلعت، وقال لقهرمانه: لا (أئتمنك) (٥) على شيء بعدها (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مصعب بن مسعود سے مروی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی زمین والا شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور فرمایا : انگور بہت زیادہ ہوگئے ہیں، آپ نے فرمایا ان کو سکھا کر کشمش بنا لو، اس نے عرض کیا کہ وہ اس سے بھی زیادہ ہیں، راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ خود زمین کی طرف تشریف لے گئے اور ان کو اکھاڑنے کا حکم دیا اور وہ اکھاڑ دی گئی، پھر آپ نے اپنے وکیل سے کہا کہ اس کے بعد میں تجھ کو پر کسی معاملہ میں بھروسہ نہیں کروں گا۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (عن أبيه).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (ضيعته).
(٣) في [هـ]: (اتخذه)، وفي [ز]: (اتخذوها).
(٤) في [أ، جـ، ح، ز]: (قال).
(٥) في [ز]: (أتمنك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23556
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23556، ترقيم محمد عوامة 22569)