مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الراهن يرهن العبد فيعتقه باب: کوئی شخص غلام کو رہن رکھوا کر پھر اُس کو آزاد کر دے
٢٣٥١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: إذا أعتق الرجل عبده خرج من الرهن، وإذا دبره خرج من (الرهن) (١)، وإذا كانت أمة فوطئها فجاءت بولد خرجت من الرهن، وإن كان السيد موسرًا أتبع المرتهن السيد بالرهن، وإن كان معسرًا سعى هؤلاء في الأقل من قيمتهم والرهن.حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غلام کو آزاد کر دے تو وہ رہن سے نکل جائے گا، اور اگر مدبر بنا دے تو بھی رہن سے نکل جائے گا ، اور اگر باندی ہو اور اس سے ہمبستری کرلے اور اس کا بچہ ہوجائے تو وہ بھی رہن سے نکل جائے گی، اور پھر اگر آقا مال دار ہو تو مرتہن آقا کو پکڑے گا اور اگر آقا غریب ہو تو یہ لوگ ( غلام اور باندی) قیمت اور رہن میں جس کی قیمت کم ہے اس کے لئے کوشش کریں گے، حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ پھر اس غلام سے جتنی سعی کی ہے اس کا اپنے آقا سے رجوع کرے گا (یعنی اس سے اتنے پیسے یا قیمت وصول کرے گا) لیکن ام ولد اور مدبر آقا سے رجوع نہیں کریں گے کیونکہ ان کی خدمت آقا کے لئے ہوتی ہے۔