حدیث نمبر: 23497
٢٣٤٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إياس بن دغفل عن الحسن قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه ما أمري وأمر (صاحبتي) (١)؟ (قال) (٢): "و (أي) (٣) أمركما؟ " قال: تصدق من بيتي بغير إذني، قال: (الأجر بينكما) قال: أرأيت إن (منعتها؟) (٤) قال: "لها ما (أحسنت) (٥) ولك ما بخلت (٦) به (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حسن سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا اور میری خاتون کا حکم ( معاملہ ) کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا تم دونوں کا کون سا معاملہ ؟ اس نے عرض کیا کہ وہ میرے گھر سے میری اجازت کے بغیر صدقہ کرتی ہے، آپ نے فرمایا ثواب دونوں کو ملے گا، اس نے عرض کیا کہ اگر میں اس کو اس سے روک لوں ؟ آپ نے فرمایا اس کو اس کا ثواب ملے گا جو اس نے ارادہ کیا اور تیرے لئے ( وبال ہے ) جو تو نے بخل سے کام لیا۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (صاحبي).
(٢) في [هـ]: (فقال).
(٣) في [أ، هـ]: (باي).
(٤) في [أ، ح، ط]: (منعها).
(٥) في [أ، ح، ط]: (ما احتسبت).
(٦) في [أ، ح، ط]: (نحلت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23497
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٦٦١٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23497، ترقيم محمد عوامة 22519)