مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من قال: (لا يباع) الرهن إلا عند سلطان باب: جو یہ فرماتے ہیں کہ رہن کو بادشاہ کے پاس ہی فروخت کیا جائے گا
حدیث نمبر: 23488
٢٣٤٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن خالد (قال) (١): بعثني محمد بن سيرين إلى إياس بن معاوية وهو على القضاء فقال: (قل) (٢) له: إن عندي (غزلًا رهنًا) (٣) قد خشيت أن يفسد، فأمرني أن أبيعه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین نے مجھے ایاس بن معاویہ کے پاس بھیجا جو کہ قاضی تھے، اور فرمایا ان سے کہو : میرے پاس رہن میں رکھوایا ہوا سوت ( اون وغیرہ) ہے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ ( رکھا رکھا) خراب ہوجائے گا۔ آپ نے مجھے حکم دیا کہ اس کو فروخت کر دوں۔
حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، ح، ط]: (قال).
(٣) في [أ، ح، هـ]: (غزل رهن).