حدیث نمبر: 23451
٢٣٤٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد عن أفلح قال: قلت للقاسم: الرجل يطلب مني الحنطة والزيت وليس عندي، إلا أنه قد عرف (سعر ذلك) (١) (و) (٢) عرفته (فاشتريته) (٣) ثم أبيعه (إياه) (٤) إلى أجل؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت افلح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے دریافت کیا کہ : ایک شخص مجھ سے گندم اور زیتون طلب کرتا ہے اور میرے پاس یہ دونوں نہیں ہیں لیکن میں ان کا بھاؤ جانتا ہوں اور ان کے متعلق جانتا ہوں میں خرید لیتا ہوں پھر میں اسی کو ایک مدت کے بعد فروخت کرسکتا ہوں ؟ فرمایا ہاں۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (سعره).
(٢) في [جـ]: (أو).
(٣) في [أ، هـ]: (واشتريته).
(٤) في [ز]: تكرار.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23451
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23451، ترقيم محمد عوامة 22478)