حدیث نمبر: 23419
٢٣٤١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن منصور بن (حيان) (١) عن أبي الطفيل قال: كنت جالسًا عند علي فأتاه رجل فقال: هل كان النبي ﷺ (٢) (يسر) (٣) إليك؟ فغضب فقال: ما كان النبي ﷺ (٤) يسر إلي شيئًا، ⦗٢٣٤⦘ يكتمه الناس، غير أنه حدثني بأربع كلمات قال: (ما هن؟) (٥) قال: لعن اللَّه من لعن (والده) (٦)، ولعن اللَّه من ذبح لغير اللَّه، ولعن (اللَّه) (٧) من آوى محدثًا، ولعن اللَّه من غيّر منار الأرض (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا، آپ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا، کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کچھ راز کی باتیں بتائی ہیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ غصہ میں آگئے اور فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی سرگوشی نہیں فرمائی جس کو لوگوں سے چھپایا ہو، سوائے اس کے کہ مجھے چار کلمات سکھلائے ہیں، اس نے عرض کی کیا وہ کون سے کلمات ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس پر اللہ کی لعنت جو والدین پر لعنت کرے، اور اس پر اللہ کی لعنت جو غیر اللہ کے نام پر ذ بح کرے ، اس پر اللہ کی لعنت جو فسادی کو ٹھکانہ دے، اور اس پر اللہ کی لعنت جو زمین کی ملکیت کو تبدیل کر دے۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (حبان).
(٢) في [ز]: ﵇.
(٣) في [أ، ح]: (بسر).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [ط]: (ولده)، وفي [جـ]: (والديه).
(٧) سقط من: [ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23419
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٧٨)، وأحمد (٩٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23419، ترقيم محمد عوامة 22449)