حدیث نمبر: 23413
٢٣٤١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن حصين عن الشعبي قال: (دفع) (١) عبد اللَّه بن يزيد الأنصاري إلى غلام له أربعة آلاف، فلحق بأصبهان فاتجر حتى صارت عشرين ألفًا، ثم هلك، فقيل له: (إنه) (٢) كان (يقارف) (٣) الربا، ⦗٢٣٢⦘ فأخذ أربعة الاف وترك ما سوى ذلك (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یزید انصاری نے اپنے غلام کو چار ہزار درہم دے کر بھیجا، وہ اصبھان گیا اور اس نے تجارت کی یہاں تک کہ اس کے پاس بیس ہزار درہم ہوگئے، پھر وہ غلام فوت ہوگیا، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ وہ غلام تجارت میں سود کی آمیزش کرتا تھا، آپ رحمہ اللہ نے صرف چار ہزار واپس لئے اور باقی پیسے چھوڑ دئیے، نہیں لئے۔
حواشی
(١) في [ط]: (رفع).
(٢) في [ط]: (إن).
(٣) في [أ]: (تفارق)، وفي [ح]: (يفارق)، وفي [ط]: (تقارن)، وفي [هـ]: (يقارب).