٢٣٤١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن أشعث وداود عن الشعبي قال: خطب عمر فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: إنا نأمركم بأشياء لعلها لا تصلح لكم، وننهاكم عن أشياء لعلها (١) تصلح لكم، وإن آخر ما عهد إلينا النبي ﷺ ⦗٢٣١⦘ (آيات) (٢) الربا، فقبض النبي ﷺ (ولم) (٣) يبينهن (لنا) (٤)، إنما هو الربا (والريبة) (٥) فدعوا [ما يريبكم إلى ما لا يريبكم (٦).حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی پھر فرمایا : بیشک میں تمہیں کچھ چیزوں کا حکم دیتا ہوں شاید کہ وہ تمہارے لئے فائدہ مند نہیں ہیں اور تمہیں کچھ چیزوں سے روکتا ہوں شاید کہ وہ تمہارے لئے فائدہ مند ہیں، بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری عہد ہم سے لیا وہ آیت ربا پر تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے پردہ فرما گئے اور ہمیں اس کی تفصیل بیان نہیں فرمائیں۔ بیشک یہ سود بھی ہے اور مشکوک بھی۔ لہٰذا مشکوک شے کو چھوڑ کر غیر مشکوک کو اختیار کرو۔ حضرت شعبی کسی چیز کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ سود اور مشکوک بھی ہے، لہٰذا سود اور مشک میں میں ڈالنے والی اشیاء کو چھوڑ دو ۔