مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأذان والإقامة
(يؤذن) بليل (أيعيد) الأذان أم لا؟ باب: اگر موذن نے فجر کی اذان طلوع صبح سے پہلے دے دی تو اعادہ اذان ہوگا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 2329
٢٣٢٩ - حدثنا حسين بن علي (١) عن أبي موسى (٢) قال: كان الحسن إذا ذكره (عنده) (٣) هؤلاء الذين يؤذنون بليل قال: (يقول) (٤): علوج فراغ ⦗٤٧٧⦘ (لا يصلون إلا بإقامة) (٥) لو أدركهم عمر بن الخطاب (لأوجعهم) (٦) (ضربا) (٧) أو لأوجع رؤوسهم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ حسن کے سامنے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو رات میں فجر کی اذان دے دیتے تھے۔ تو آپ نے فرمایا کہ وہ عجم کے کافر اور فارغ لوگ ہیں وہ صرف اقامت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ اگر حضرت عمر کو ان کے بارے میں علم ہوجاتا تو انہیں مارتے یا ان کے سر پر مارتے۔
حواشی
(١) في حاشية [ب]: (الجعفي).
(٢) في حاشية [ب]: (إسرائيل بن موسى نزيل الهند).
(٣) في [هـ]: (عند).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [د]: (لا يصلون الإقامة)، وفي [هـ]: (بالإقامة).
(٦) في [ك]: (وجعهم).
(٧) سقط من: [أ].