حدیث نمبر: 23228
٢٣٢٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي قال: (حدثني) (١) (ابن) (٢) سراقة أن أبا عبيدة بن الجراح كتب (لأهل) (٣) ⦗١٨٥⦘ (دير) (٤) (طيايا) (٥) (إني) (٦) أمنتكم على دمائكم وأموالكم وكنائسكم أن تخرب أو (تكشر) (٧) ما لم تحدثوا أو تؤوا (محدثًا) (٨) مغيلة، فإن أنتم أحدثتم أو أويتم (محدثا) (٩) مغيلة فقد برئت منكم الذمة، وإن عليكم إنزال الضيف ثلاثة أيام، وإن ذمتنا بريئة من معرة الجيش. شهد -خالد بن الوليد ويزيد بن أبي سفيان وشرحبيل ابن حسنة و (قضاعي) (١٠) بن عامر وكتب (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے دیر طیایا کے لوگوں کو لکھا کہ میں نے تمہارے خون، اموال اور عبادت گاہوں کو امان دی ہے کہ ان کو برباد نہ کیا جائے اور نہ توڑا جائے، جب تک کہ تم لوگ کوئی نیا کام نہ کیئے جاؤ یا تم کسی قاتل کو ٹھکانہ دو ، پس اگر تم نے کوئی نیا کام کیا یا کسی قاتل کو ٹھکانہ دیا تو پھر میں تمہارے ذمہ سے بری ہوں، تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم مہمان کی تین دن مہمان نوازی کرو، بیشک ہم لشکر کی غلطی، لغزش سے بری ہیں۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ، حضرت یزید بن سفیان رضی اللہ عنہ ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اور قضاعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے گواہی دی ( گواہ بنے ) اور اس کو لکھ لیا گیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (حدثنا)، وفي [أ، ح، ط، جـ، ز]: (حدثني).
(٢) في [ط]: (أبي).
(٣) في [جـ]: (إلى أهل).
(٤) سقط من: [أ، ح، ز، ط].
(٥) موطن بارض قنسرين بالشام بحول حمص. انظر: بغية الطلب (١/ ٥٨٤)، فتحها أبو عبدية، وفي [أ، ح]: (طبايا)، وفي [ط]: (طانا).
(٦) تكررت في: [جـ].
(٧) في [ط، هـ]: (تسكن)، وفي [أ، ح، جـ، ز]: (تكسر).
(٨) سقط من. [جـ].
(٩) في [أ، ح]: (محتلق) بدون نقاط.
(١٠) في [جـ]: (وقضى عن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23228
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن سراقة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23228، ترقيم محمد عوامة 22269)