مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأذان والإقامة
من قال: (لا تؤذن) فيه و (لا تقيم) (تكفيك) إقامتهم باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ مسجد میں دوسری بار اذان اور اقامت نہیں کہیں گے ، لوگوں کی اقامت ان کے لیے کافی ہے
حدیث نمبر: 2322
٢٣٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن يزيد عن ابن أبي ليلى: أنه (مسألة) (١) رجل قال: دخلت المسجد وقد صلى أهله أؤذن؟ قال: قد كفيت ذلك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن ابی لیلیٰ سے سوال کیا کہ اگر میں مسجد میں داخل ہوں اور لوگ نماز پڑھ چکے ہوں تو کیا میں اذان دوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ لوگوں کی اذان و اقامت تمہارے لیے کافی ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (سأل).