مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشتري الجارية على أن لا يبيع ولا يهب باب: کوئی شخص اس شرط پر باندی خریدے کہ اِس کو فروخت یا ہبہ نہیں کرے گا
٢٣١١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي قال: ابتعت جارية وشرط عليَّ أهلها أن لا أبيع ولا أهب ولا أمهر، فإذا مت فهي حرة، فسألت الحكم بن (عتيبة) (١) فقال: لا بأس به.حضرت اوزاعی سے مروی ہے کہ میں نے ایک باندی خریدی اور اس کے اہل نے مجھ پر شرط لگائی کہ میں اس کو فروخت نہیں کروں گا ، اور نہ ہی ہبہ کروں گا اور نہ ہی مہر میں دوں گا، اگر میں مر جاؤں تو وہ آزاد ہے، میں نے حضرت حکم بن عتیبہ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں، میں نے حضرت مکحول رحمہ اللہ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ، میں نے عرض کیا : آپ کو مجھ پر اندیشہ ہے ؟ فرمایا کیوں نہیں، میں آپ کے لیے دو اجروں کی امید کرتا ہوں۔ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے دریافت کیا ؟ تو انہوں نے اس کو ناپسند سمجھا۔ حضرت اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیع کرنا جائز ہے اور یہ شرط لگانا باطل ہے، میں نے حضرت عبدہ بن ابو لبابہ سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : یہ بُری شرمگاہ ( چیز) ہے۔ میں نے زہری سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے خط کے ذریعہ اس باندی کا حکم پوچھا جو انہوں نے اپنی بیوی سے اس شرط پر خریدی تھی کہ اگر میں اس کو بیچوں تو اس کی قیمت کی حق دار تم ہوگی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ تو ایسی فرج سے ہمبستری نہیں کرسکتا جس میں غیر کا بھی حق ہو۔