حدیث نمبر: 23115
٢٣١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن ابن عون عن محمد قال: قال شريح: (ادع) (١) وأكثر و (اطنب) (٢) وائت على ذلك بشهود (عدل) (٣) فإنا قد أمرنا (بالعدل) (٤)، وائت فسل عنه، فإن قالوا: اللَّه أعلم، فاللَّه أعلم (٥) ⦗١٥٩⦘ (يَفْرقُوا) (٦) أن يقولوا: هو مريب (ولا) (٧) تجوز شهادة مريب، (فإن) (٨) قالوا: ما علمناه (إلا) (٩) (عدلًا مسلمًا) (١٠) فهو إن شاء اللَّه كذلك، وتجوز شهادته.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے دعویٰ کرو پھر اس میں زیادتی کرو اور خوب زیادتی طلب کرو، اور پھر اس پر عادل گواہ قائم کرو، بیشک ہمیں عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور آپ ان سے سوال کریں، اگر وہ لوگ کہیں کہ اللہ اعلم، تو اللہ زیادہ جاننے والا ہے، اور وہ اگر الگ الگ ہو کر یوں کہیں کہ وہ شکِّی ہے ( شک میں ہے ) تو شک والے کی گواہی معتبر نہیں، اور اگر وہ کہیں کہ : ہمیں نہیں معلوم اس کے بارے میں مگر یہ عادل اور مسلمان ہے تو پھر وہ ان شاء اللہ اسی طرح ہے اور اس کی گواہی معتبر ہے۔

حواشی
(١) في [ح، ز، ط]: (أدعي).
(٢) في [أ، ح]: (ارطب).
(٣) في [هـ]: (عدول).
(٤) في [هـ]: (بالعدول).
(٥) في [أ، ح، ط، هـ]: زيادة (أن).
(٦) في [أ، ح، ز، ط]: (يعزلون)، وفي [جـ]: (يعرفون).
(٧) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (ولا).
(٨) في [جـ، ز]: (وإن).
(٩) سقط من: [جـ، ز].
(١٠) في [جـ]: (عدل مسلم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23115
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23115، ترقيم محمد عوامة 22167)