مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
العبد يكون بين الرجلين فيعتق أحدهما نصيبه باب: غلام دو شخصوں کے درمیان مشترک ہو، ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے
حدیث نمبر: 23098
٢٣٠٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كان بيني وبين الأسود و (بين) (١) أمنا غلام قد شهد القادسية (وأبلى) (٢) فيها فأرادوا عتقه وكنت صغيرًا، فذكر ذلك الأسود لعمر فقال عمر: أعتقوا أنتم، ويكون عبد الرحمن على نصيبه حتى يرغب (٣) في مثل ما رغبتم فيه أو يأخذ نصيبه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میرے اور حضرت الاسود اور ہماری والدہ کے درمیان ایک غلام مشترک تھا۔ وہ غلام جنگ قادسیہ میں شریک ہوا اور خوب بہادری دکھائی۔ ان سب نے اس کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا، میں اس وقت کم عمر تھا۔ حضرت اسود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تم اپنا حصہ آزاد کردو، اور عبد الرحمن کے لئے اس کا حصہ ہوگا، یہاں تک کہ اس کی بھی اس بات میں رغبت ہوجائے جس میں عبس ہوئی (یعنی آزادی) یا پھر وہ اپنا حصہ وصول کرلے۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ح، ز، ط]: (وبلا).
(٣) في [ز]: زيادة (فيما).