حدیث نمبر: 23093
٢٣٠٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في (الرجل) (١) يرهن (عنده) (٢) الرجل (الرهن) (٣) فيقول: إن لم آتك به إلى كذا وكذا فهو (لك) (٤)، قال: الرهن لا يغلق، وإن (قال: إن) (٥) لم آتك به إلى ⦗١٥٣⦘ كذا وكذا فبعه و (اقتض) (٦) الذي لك، قال: لا (يكون) (٧) أمين نفسه ولا (يبعه) (٨).
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص دوسرے کے پاس رہن رکھواتے ہوئے یوں کہے کہ اگر میں تیرے پاس اتنے اتنے نہ لے کر آیا تو یہ چیز تیری۔ آپ نے فرمایا : مقررہ چیز ادا نہ کرسکنے کی صورت میں مرتہن اس کا مالک نہیں ہوتا۔ اور اگر وہ رہن رکھتے وقت یوں کہہ دے کہ اگر میں تیرے پاس اتنے اتنے نہ لے کر آیا تو اس کو فروخت کر کے جتنے تیرے بنتے ہیں وہ پورے کرلے۔ آپ نے فرمایا : اپنے نفس کا امین نہیں ہوگا۔ وہ اس کو فروخت نہ کرے۔

حواشی
(١) في [ط]: (رجل).
(٢) في [جـ]: (عند).
(٣) سقط من: [ز].
(٤) سقط من: [أ، ح، ط].
(٥) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٦) في [أ، ح، ط، هـ]: (اقبض).
(٧) في [جـ، ز]: (يكن).
(٨) في [هـ]: (بيعه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23093
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23093، ترقيم محمد عوامة 22146)