مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في (الرجلين) يشتركان (في السلعة) فيقوم على أحدهما بعشرة وعلى الآخر بتسعة باب: دو آدمی کسی سامان کے مالک ہوں ان میں سے ایک کو دس درہم اور دوسرے کو نو درہم میں ملے ہوں
حدیث نمبر: 23087
٢٣٠٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن الشعبي ⦗١٥١⦘ والحكم في رجلين اشتريا سلعة، (اشترى) (١) أحدهما نصفها بعشرين، واشترى الآخر نصفها بعشرة، فقال الشعبي: إن (باعاها) (٢) (مرابحة فعلى رؤوس أموالهما وإن باعاها) (٣) مساومة فالنصف والنصف.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور حضرت حکم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں نے مل کر ایک سامان خریدا، ایک نے آدھا بیس درہم میں اور دوسرے نے آدھا دس درہم میں خریدا، حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ اس سامان کو مرابحۃً فروخت کریں تو نفع رأس المال کے اعتبار سے ہوگا اور اگر وہ مبیع مساومۃ کے اعتبار سے فروخت کریں تو منافع نصف نصف ہوگا۔ اور حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں منافع آدھا آدھا ہوگا۔
حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، ح، هـ]: (باعها).
(٣) ما بين القوسين سقط من: [ز].