مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يهب الهبة فيريد أن يرجع فيها باب: کوئی شخص ہبہ دینے کے بعد واپس لینے کا ارادہ کرے
حدیث نمبر: 23072
٢٣٠٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن هشام عن ابن سيرين عن شريح قال: من أعطى في صلة أو قرابة أو معروف أو حق (فعطيته) (١) جائزة، والجانب (المستغزر) (٢) يثاب من (هبته) (٣) أو ترد عليه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو صلہ رحمی ، قرابت داری یا اچھے طریقے سے یا کسی کے حق کی وجہ سے عطاء کرے تو اس کا عطیہ ( ہبہ) جائز ہے۔ اور جانب مستغزر کو یا تو ثواب مل جاتا ہے یا پھر اپنا عطیہ واپس مل جاتا ہے۔ (جانب مستغزر ایک اصطلاح ہے۔ یعنی دو ھبہ کرنے والوں کو جو باہمی ہبہ کر رہے ہوں تو ان میں سے جس کو زیادہ چیز حصہ میں آجائے وہ جانب مستغزر ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عطيته).
(٢) أي الطالب لأكثر من قيمة هديته، وفي [هـ]: (المستعذب)، وفي [ز]: (المستعدب)، وفي [ع]: (المستعرر).
(٣) في [أ]: (هبة).