حدیث نمبر: 23025
٢٣٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن زيد بن جبير قال: كنت ⦗١٣٥⦘ قاعدا عند ابن عمر فأتاه رجل فقال: ضالة (وجدتها) (١)؟ (فقال) (٢): أصلح إليها وأنشد، قال: فهل علي أن شربت من لبنها (٣)؟ قال ابن عمر: ما أرى عليك في ذلك (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ مجھے گم شدہ جانور ملا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی اصلاح کر کے اس کو نفع بخش بناؤ، اور اس کی تشہیر کرو، اس نے دریافت کیا کہ اگر میں اس کا دودھ استعمال کرلوں تو مجھ پر ضمان ہے ؟ حضر ت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میرے خیال میں تجھ پر کچھ نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [ط]: (وجدناها).
(٢) في [أ، ط]: (ناقصة).
(٣) في [ز]: (فقال).