حدیث نمبر: 23023
٢٣٠٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (العالية) (١) (قالت) (٢): كنت (جالسة) (٣) عند عائشة فاتتها امرأة فقالت: يا أم المؤمنين إني وجدت شاة ضالة فكيف تأمريني أن أصنع؟ فقالت: عرفي واحلبي و (اعلفي) (٤)، ثم عادت فسألتها، فقالت عائشة: (تأمريني) (٥) أن آمرك أن (تذبحيها أو تبيعيها) (٦) فليس لك ذلك (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت العالیہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھی کہ ایک خاتون آئی اور عرض کی اے ام المؤمنین ! مجھے ایک گم شدہ بکری ملی ہے، آپ رضی اللہ عنہا کیا حکم دیتی ہیں میں اس کا کیا کروں ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس کی تشہیر کرو، اس کا دودھ نکالو اور اس کو چارہ کھلاؤ، پھر وہ دوبارہ حاضر ہوئی اور سوال کیا ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : تو مجھ سے اس امید پر سوال کر رہی ہے کہ میں تجھے ذبح یا فروخت کرنے کا حکم دوں گی ؟ یہ تیرے لئے جائز نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (أبي العالية)،، في حاشية [جـ]: (العالية بنت أيفح زوجة أبي إسحاق السبيعي وأم يونس بن أبي إسحاق، وثقها ابن حبان، حرره محمود العيني).
(٢) في [أ، ح، ط]: (قال)، وكذلك في: [ز].
(٣) في [أ، ح، ز، ط]: (جالسًا).
(٤) في [ز]: (اعلقي).
(٥) في [ط]: (تسأليني).
(٦) في [أ، ح، ط، ز]: (تذبحينها أ، تبيعينها).