حدیث نمبر: 23021
٢٣٠٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سلمة بن وردان قال: سألت سالم بن عبد اللَّه عن ضالة الإبل فقال: معها (سقاؤها وحذاؤها) (١)، دعها إلا أن تعرف صاحبها فتدفعها إليه، قال: وسألته عن ضالة المغنم فقال: عرفها، فإن جاء صاحبها وإلا فهي لك أو لأخيك أو للذئب.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبد اللہ سے گم شدہ اونٹ کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ سم اور مشک موجود ہیں (یعنی پانی کی بھی احتیاجی نہیں اور اپنے سموں سے وہ دور تک کا سفر بھی کرسکتی ہے) ۔ لہٰذا تو اس کو چھوڑ دے۔ ہاں اگر اس کے مالک کا علم ہو تو اس کو دے دے۔ پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے گم شدہ بکری کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اس کی تشہیر کرو ۔ اگر مالک آجائے تو بہتر ہے وگرنہ یا تو وہ تیرے لئے ہے یا تیرے کسی بھائی کے لئے یا پھر بھیڑیے کے لئے ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ح]: (سقاها وحذاها)، وفي [ط]: (سقاها وخذاها).