حدیث نمبر: 23019
٢٣٠١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن عقبة بن (عبد اللَّه) (١) قال: حدثني ميسرة بن عميرة أنه لقي ⦗١٣٣⦘ (أبا هريرة) (٢) فقال: ما تقول في اللقطة؟ (قال: وما اللقطة؟ قال:) (٣) الحبل والزمام (ونحو هذا) (٤) قال: تعرفه، فإن وجدت صاحبه رددته عليه، وإلا استمتعت به (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت میسرہ بن عمیرہ کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ لقطہ کے متعلق آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کون سا لقطہ مراد ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ڈوری اور لگام وغیرہ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر مالک مل جائے تو اس کو لٹا دو ، وگرنہ اس کو استعمال کرلو۔

حواشی
(١) في [أ، جـ، ز، ط، هـ]: (عبيد اللَّه)، وفي الثقات لابن حبان (٥/ ٤٢٦) (مرزوق)، وفي التاريخ الكبير (٦/ ٤٣٩) والجرح والتعديل (٦/ ٣١٦) والثقات (٨/ ٤٩٩): (عقبة بن مسروق).
(٢) تكرر في: [ز].
(٣) سقط من: [أ، ز، هـ].
(٤) سقط من: [ط].
(٥) مجهول؛ لجهالة ميسرة وعقبة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23019
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23019، ترقيم محمد عوامة 22075)