مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في اللقطة ما يصنع بها؟ باب: پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 23006
٢٣٠٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن أبي العلاء عن مطرف عن عياض بن (حمار) (١) قال: قال النبي ﷺ: (من وجد لقطة فليشهد (ذا عدل أو ذوي عدل) (٢) ثم لا (يغيره) (٣) ولا يكتم، فإن (جاء ربها) (٤) فهو أحق بها، وإلا فهو مال اللَّه يؤتيه من يشاء) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیاض بن حمار سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کو لقطہ ملے اس کو چاہیئے کہ اس پر دو گواہ بنا لے ، پھر نہ اس کو تبدیل کرے نہ ہی چھپائے، اگر اس کا مالک آجائے تو وہ زیادہ حق دار ہے ، اور اگر مالک نہ آئے تو وہ اللہ کا مال (نعمت) ہے جس کو چاہے وہ عطاء کرے۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (حماد).
(٢) في [أ، ح، ط]: (ذوا عدل أو ذو عدل)، وفي [ز]: (ذا عدل أو ذي عدل).
(٣) في [أ، ح، ط]: (لا يقر).
(٤) في [جـ، ز] (جاء بها).