مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في اللقطة ما يصنع بها؟ باب: پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 23004
٢٣٠٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن عبد الرحمن بن ⦗١٢٩⦘ حرملة قال: سألت سعيد بن المسيب عن اللقطة فقال: عرفها (سنة) (١) (فأنشد) (٢) ذكرها، فإن جاء من يعرفها فأعطها إياه هالا فتصدق بها، فإن جاء فخيره بين الأجر واللقطة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے لقطہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ایک سال تک تشہیر کرو ، اور خوب اس کی مشہوری کرو، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالہ کردو، وگرنہ اس کے لئے صدقہ کردو، پھر صدقہ کرنے کے بعد مالک آجائے تو اس کو اختیار ہے ، صدقہ کا ثواب لے یا گم شدہ چیز۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [أ، جـ، ح، ز]: (وأنشد).