حدیث نمبر: 23002
٢٣٠٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن زكريا عن الشعبي قال: تعرف اللقطة سنة، فإن لم تجد لها طالبا فأعطها أهل بيت من المسلمين فقراء (وقل) (١) لهم: هذه قرض من صاحبها عليكم، فإن جاء فهو أحق بها، (وإن) (٢) لم يجيء فهي (صدقة) (٣) عليكم منه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لقطہ کی ایک سال تشہیر کی جائے گی، اگر اس کا مالک نہ ملے تو فقراء اہل بیت کو دے دے اور ان کو یہ کہہ دے کہ یہ تم پر اس کے مالک کی طرف سے قرض ہے اگر تو مالک آگیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اور اگر وہ نہ آیا اس کی طرف سے تم پر صدقہ ہے۔

حواشی
(١) في [ح، ز]: (وقيل)، وفي [جـ]: (وقل هم)، وفي [هـ]: (قل).
(٢) في [ز]: (فإن لم يج).
(٣) زائدة في: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23002
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23002، ترقيم محمد عوامة 22058)