مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في اللقطة ما يصنع بها؟ باب: پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے؟
٢٢٩٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن أبي السفر عن رجل من بني رؤاس، قال: التقطت ثلاثمائة درهم فعرفتها تعريفًا ضعيفًا وأنا يومئذٍ محتاج، فأكلتها حين لم أجد أحدًا يعرفها، ثم أيسرت فسألت عليًا فقال: عرفها سنة، فإن جاء صاحبها فادفعها إليه، وإلا فتصدق بها، وإلا فخيره بين الأجر وبين أن تغرمها له (١).حضرت ابو سفر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بنی رُؤاس میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ مجھے تین سو دراہم ملے، میں نے ان کی تھوڑی سی تشہیر کروائی میں ان دنوں خود محتاج تھا۔ تشہیر کے بعد جب میں نے کسی کو نہ پایا تو میں نے وہ کھا لیئے، پھر بعد میں صاحب استطاعت ہوگیا تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک سال تک ان کی تشہیر کرو ، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالے کردو، وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو، اور اس کو اختیار ہے کہ اس کا اجر ( صدقہ) لے لے یا تُو اس کا نقصان پورا کر دے۔