مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأذان والإقامة
في الرجل يكون وحده فيؤذن أو يقيم باب: کیا اکیلا آدمی اذان اور اقامت کہے گا
حدیث نمبر: 2298
٢٢٩٨ - حدثنا ابن علية عن (أبي هارون الغنوي) (١) قال حدثنا أبو عثمان قال: قال سلمان: ما كان (من) (٢) رجل في (أرض) (٣) (قيّ) (٤) فأذن وأقام إلا صلى خلفه من خلق اللَّه ما لا يرى طرفاه (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ جب آدمی کسی سنسان زمین میں ہو اور وہ اذان کہہ کر اقامت کہے تو اس کے پیچھے اللہ کی اتنی زیادہ مخلوق نماز پڑھتی ہے جس کے دونوں کناروں پر نظر نہیں جاسکتی۔
حواشی
(١) في حاشية [ب]: (إبراهيم بن العلاء).
(٢) سقط (من) في [أ، جـ، ك].
(٣) في [أ]: (بأرض).
(٤) القي: الخالية، وفي [هـ]: (فيء).