مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في (العبد) يدس (إلى) الرجل المال فيشتريه باب: اس غلام کے بارے میں جو کسی شخص کو چوری چوری مال دے دے تاکہ وہ اس غلام کو خریدے
حدیث نمبر: 22975
٢٢٩٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسباط (بن) (١) محمد عن مطرف عن الحكم في عبد أتى رجلًا فأعطاه مالًا، (فقال) (٢): (اشترني) (٣)، فاشتراه فأعتقه، ثم أطلع على ذلك قال: البيع جائز، ويؤخذ الثمن الذي (اشتري) (٤) به العبد.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ غلام ایک شخص کے پاس آیا اور اس کو مال دیا اور کہا کہ مجھے خرید لے ۔ اس شخص نے غلام کو خرید کر آزاد کردیا۔ پھر بعد میں وہ اس پر مطلع ہوا ، آپ نے فرمایا بیع تو جائز ہے ، اور وہ ثمن لے لیے جائیں گے جن کے بدلہ میں غلام خریدا گیا تھا۔
حواشی
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [هـ]: (وقال).
(٣) في [هـ]: (اشتريني).
(٤) في [أ، ح، ز، ط]: (اشتراه).