مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يسلم وله أرض باب: کافر اِس حال میں مسلمان ہو کہ اُس کے پاس اپنی زمین ہو
٢٢٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن قال: سألت عبيد (اللَّه) (١) بن عمر عمن أسلم [من أهل السواد (فقال: من أسلم من أهل السواد) (٢) ممن له ذمة فله أرضه وماله، ومن أسلم] (٣) ممن لا ذمة له وإنما أخذه عنوة فارضه للمسلمين.حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ اہل عراق میں سے اگر کوئی مسلمان ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اہل عراق میں سے اگر وہ مسلمان ہو جو ہمارے ذمہ میں ہیں ، تو اس کی زمین اور اس کا مال اسی کا ہوگا، اور وہ مسلمان ہو پر جو ہمارے ذمہ میں نہیں ہے جو زمین ہم نے جبراً ( جہاد کر کے ) فتح کی تھی تو تو وہ زمین مسلمانوں کے لئے ہوگی۔ حضرت عبیداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ مسئلہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے مکتوب میں پڑھا تھا۔