حدیث نمبر: 22885
٢٢٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن قال: سألت عبيد (اللَّه) (١) بن عمر عمن أسلم [من أهل السواد (فقال: من أسلم من أهل السواد) (٢) ممن له ذمة فله أرضه وماله، ومن أسلم] (٣) ممن لا ذمة له وإنما أخذه عنوة فارضه للمسلمين.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ اہل عراق میں سے اگر کوئی مسلمان ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اہل عراق میں سے اگر وہ مسلمان ہو جو ہمارے ذمہ میں ہیں ، تو اس کی زمین اور اس کا مال اسی کا ہوگا، اور وہ مسلمان ہو پر جو ہمارے ذمہ میں نہیں ہے جو زمین ہم نے جبراً ( جہاد کر کے ) فتح کی تھی تو تو وہ زمین مسلمانوں کے لئے ہوگی۔ حضرت عبیداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ مسئلہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے مکتوب میں پڑھا تھا۔

حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) سقط من: [ط]، وكذلك من: [جـ].
(٣) سقط من: [ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22885
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22885، ترقيم محمد عوامة 21953)