مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في مكاتب مات وترك ولدا (أحرارا) باب: مکاتب آزاد لڑکا چھوڑ کر فوت ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22860
٢٢٨٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن إسماعيل عن الشعبي قال: قلت له: إن شريحًا كان يقضي في المكاتب يموت ويترك مالًا وولدًا: ⦗٩٤⦘ (يؤدّى) (١) عنه لمواليه ما بقي من مكاتبته (و) (٢) ما بقي رده على ولده؟.مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس مکاتب کے متعلق جو مال اور اولاد چھوڑ کر فوت ہوجائے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ : جو بدل کتابت باقی رہ گیا ہے وہ اس کے آقا کو ادا کیا جائے گا، اور جو مال باقی بچ جائے وہ اس کی اولاد کو مل جائے گا، حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا : حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس مسئلہ میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق فیصلہ فرمایا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (أتؤدا).
(٢) في [ح، ط]: سقطت (الواو).