مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل (يبضع) الرجل فيحتاج إليها باب: اگر کسی شخص کو سامانِ تجارت دے، پھر خود کو اس کی ضرورت پیش آجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22830
٢٢٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن في رجل (دفعت إليه) (١) (دراهم) (٢) يشتري بها شيئًا فصرفها في حاجته ثم ردها، فاشترى بها الذي أمر به، قال: هو ضامن حتى يسلمها إلى ربها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کو کچھ دراہم دئیے گئے تاکہ وہ ان سے کوئی چیز خریدے، اس نے وہ دراہم اپنی ضرورت میں خرچ کر دئیے ، پھر ان کو واپس کردیا اور اس کے ساتھ وہی چیز خریدی جس کا اس کو کہا گیا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تک وہ مالک کے سپرد نہ کر دے وہ ضامن ہوگا۔
حواشی
(١) [ح]: (رفعت إليهم).
(٢) في [ح]: (درهم).