مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في بيع المجازفة لما قد علم كيله باب: جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
حدیث نمبر: 22765
٢٢٧٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (روّاد) (١) بن جراح أبو (عصام) (٢) العسقلاني عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير، قال: سألت الحسن و (مجاهدًا) (٣) وعكرمة (وعطاء) (٤) عن رجل يأتي الرجل (فابتاع) (٥) من بيته طعامًا (٦) فيه مجازفة، ورب الطعام قد علم كيله، (فكرهه) (٧) كلهم.مولانا محمد اویس سرور
حسن، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ اور حضرت عطا سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص دوسرے کے پاس آتا ہے اور اندازاً گندم کی بیع کرتا ہے، اور بعض اوقات گندم کی مقدار معلوم بھی ہوتی ہے تو ایسی بیع کرنا کیسا ہے ؟ سب حضرات نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حواشی
(١) في [ط]: (داود)، وفي [أ، ح]: (رواد).
(٢) في [ز]: (عاصم).
(٣) في [ز]: (مجاهد).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [جـ]: (فيبتاع).
(٦) في [ط]: زيادة (و).
(٧) في [جـ]: (وكرهه).