حدیث نمبر: 2272
٢٢٧٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن واصل (الأحدب) (١) عن قبيصة بن ⦗٤٦٥⦘ (برمة) (٢) قال: سمعت ابن مسعود يقول: ما أحب أن يكون (مؤذنوكم) (٣) عميانكم، قال: (و) (٤) حسبته قال: ولا قراؤكم (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ تمہارے مؤذن نابینا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ شاید انہوں نے قاریوں کا بھی ذکر کیا۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) في حاشية [ب]: (الأسدي).
(٣) في [أ، ب]: (مؤذنيكم).
(٤) سقط من: [جـ، ك].