مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يكاتب (مدبره) ثم يموت وعليه من (مكاتبته) شيء باب: ایک شخص اپنے مدبر (غلمان یا برائیں) کے ساتھ مکاتبہ (معاہدہ) کرتا ہے، پھر وہ مر جاتا ہے اور اس کے مکاتبہ میں کچھ بقایا (ادائیگی) باقی ہے
حدیث نمبر: 22694
٢٢٦٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد عن حجاج عن محمد بن قيس بن الأحنف عن أبيه (١) عن ابن مسعود في الرجل يبيع (مدبره) (٢) خدمته، قال: ما أخذ سيده فهو له، وما بقي فلا شيء له (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے مدبر غلام کی خدمت کو فروخت کر دے تو جو کچھ اس کا آقا وصول کرچکا ہے، وہ اس کا شمار ہوگا اور جو باقی رہ گیا ہے وہ غلام پر لازم نہ ہوگا۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عن أمه).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (مدبرته).
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) مجهول منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، ومحمد بن قيس مجهول، أخرجه البخاري في التاريخ ١/ ٢١٠.