مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في حريم (الآبار) كم يكون ذراعا باب: کنویں کی منڈیر( احاطہ) کتنا ذراع ہو؟
حدیث نمبر: 22684
٢٢٦٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن محمد بن إسحاق قال: سألت أبا بكر (بن) (١) محمد بن عمرو بن حزم عن الأعطان فقال: أما أهل الجاهلية فكانت خمسين ذراعا لناحيتها يكون بين البئرين مائة، فلما كان الإسلام رأوا أن ⦗٥٣⦘ دون ذلك مجزئ، فجعل لكل (بئر) (٢) خمس وعشرون ذراعا لناحيتها خمسون ذراعًا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ سے کنویں کے احاطہ کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : زمانہ جاہلیت میں اس کے ارد گرد کے لئے پچاس ذراع ہوتا تھا، دو کنوؤں کے درمیان سو ہوتا تھا، جب اسلام کا دور آیا تو دیکھا گیا کہ اس سے کم بھی کافی ہوجاتا ہے، پھر ہر کنویں کے لئے پچیس ذراع بنایا گیا ، اس کے ارد گرد کے لئے پچاس ذراع۔
حواشی
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [أ، ط]: (بين).
(٣) منقطع؛ أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم لا يروي عن الصحابة فضلًا عن أهل الجاهلية.