مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في حريم (الآبار) كم يكون ذراعا باب: کنویں کی منڈیر( احاطہ) کتنا ذراع ہو؟
حدیث نمبر: 22683
٢٢٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معتمر) (١) عن عدي بن الفضيل قال: أتيت عمر بن عبد العزيز فاستحفرته بئرا قال: اكتب حريمها خمسين ذراعًا وليس له (حق) (٢) مسلم ولا يضره، وابن السبيل (أولى) (٣) من يشرب.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن فضیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے کنویں کی کھدوائی کی درخواست کی۔ انہوں نے فرمایا اس کا احاطہ پچاس ذراع لکھ لو، اور اس میں صرف مسلمان کا حق نہیں ہوگا، اور نہ ہی اس کو نقصان پہنچائے گا، اور مسافر اس سے پینے کا زیادہ حق دار ہوگا۔
حواشی
(١) في [ع]: (معمر).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [ط، هـ]: (أول).