مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري المتاع أو الغلام فيجد (ببعضه) عيبا باب: کوئی شخص سامان یا غلام خریدے پھر اُس کے بعض حصہ میں عیب پائے
حدیث نمبر: 22615
٢٢٦١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن ليث عن حجاج بن يسار أن رجلًا اشترى من رجل (أزقاقًا) (١) من سمن ونقد صاحبه، فنقصت الزقاق فأراد أن يقاصه ببعض الدراهم، فقال ابن عمر: خذ بيعك جميعًا أو رده جميعًا (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج سے مروی ہے کہ ایک شخص نے گھی کے مشکیزے خریدے اور پیسے نقد ادا کر دئیے ، پھر کچھ مشکیزے کم نکلے، تو اس نے ارادہ کیا کہ اس کی کمی کچھ دراہم سے دور کرے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اگر بیع کرنی ہے تو پوری کرو وگرنہ پوری چھوڑ دو ۔
حواشی
(١) في [هـ]: (زقاقًا).
(٢) مجهول منقطع؛ لجهالة حجاج بن يسار، وعدم ثبوت روايته عن ابن عمر.