حدیث نمبر: 22573
٢٢٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة (١): سمع عمرو عبد اللَّه بن عمر يقول: كنا نخابر ولا نرى بذلك بأسا، حتى زعم رافع بن خديج أن النبي ﷺ نهى ⦗٢٦⦘ (عنها) (٢)، فتركناه من أجله (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ بٹائی پر زمین دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا گمان یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، ہم نے ان کی وجہ سے یہ کام چھوڑ دیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (قال).
(٢) في [ط]: (عنه)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22573
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٤٧) (١٠٨)، وأحمد (٤٥٨٧)، وأصله عند البخاري (٢٣٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22573، ترقيم محمد عوامة 21665)